~/newtemp/images/usman-dar.png message
وزیراعظم کے معاون خصوصی بارے امور نوجوانان

جناب محمد عثمان ڈار کا پیغام

آج ہماری دنیا میں 10 سال سے لے کر 24 سال کی درمیانی عمر کے نوجوانوں کی تعداد ایک ارب 80 کروڑ سے زائد ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ ان پسماندہ جوانوں کو امیر اور مستحکم ممالک کے جوانوں کے مقابلے میں غربت، اقتصادی عدم مساوات، اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ پاکستان ، جہاں ڈیموگرافک تبدیلیاں ہو رہی ہیں، میں ترقی کو درپیش یہ بڑا چیلنج ذیادہ نظر آتا ہے ۔ گزشتہ 2 عشروں میں عالمی سطح پر ہونے والی دہشت گردی میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے ، اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔

اس وقت ملک میں نوجوانوں کی تعداد قومی تاریخ کے ریکارڈ میں سب سے زیادہ ہے۔ 64 فیصد پاکستانی 30 سال سے کم عمر ہیں اور 29 فیصد کی عمریں 15 سے لے کر 29 سال ہیں۔ ہمارے نوجوانوں میں سے اکثر نوجوانوں کو کئی سماجی، اقتصادی اور تعلیم میں طبقاتی امتیازات جیسی پسماندگیوں کا سامنا ہے اور اکثر نوجوان غذائی عدم تحفظ ، حقوق کی عدم دستیابی اور قانون کی کمزور حکمرانی کے ماحول میں رہتے ہیں۔ نوجوانوں میں شرح خواندگی 30 فیصد ہے۔ اکثر نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں تفریحی سہولیات، سینماز، پارکس وغیرہ تک رسائی نہیں ہے۔ ایک عام سا اندازہ ہے کہ پاکستان کی کل انتخابی حق راے دہی کا 44 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ملک میں کام کرنے والوں کی زیادہ تر تعداد کی عمریں 15 سے 64 سال کے درمیان ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 65 سال سے بڑے اور 15 سال سے کم عمر کے زیادہ تر افراد کام نہیں کرتے۔ یوں پاکستان کی کُل لیبر فورس(15 سال سے 65 سال کی عمر کے لوگ) 41 فیصد پر مشتمل ہے۔ ہر سال 40 لاکھ پاکستانی نوجوان کام کرنے کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ اس آبادی کو جاب مارکیٹ میں لے جانے کے لیے ہمارے ملک کو آئندہ پانچ سالوں میں 45 لاکھ(سالانہ 9 لاکھ) نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ حقائق ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے سوالیہ نشان ہیں جن کو قومی پالیسی اور ہیومن سیکیوٹی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ اسی امر کے پیش نظر عزت مآب وزیراعظم کی فعال قیادت میں پاکستان ایک ایسے قابل عمل اور ٹھوس حل کی تلاش میں سرگرم عمل ہے جس سے ان چیلنجز کو کم کیا جا سکے تاکہ ملک میں سیاسی اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے نوجوانوں کو ملٹی پلائیر فورس میں تبدیل کیا جا سکے۔

نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے قومی سفر میں پہلے قدم کے طور پر مجھے حکومت پاکستان کا پہلا جامع نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ فریم ورک پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ نیشنل یوتھ ڈویلمپنٹ فریم ورک میں نوجوانوں کے لیے ان 3 اہم ترین شعبوں میں سرمایہ کاری پر توجہ دی گئی ہے جو پاکستان کا مستقبل سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کار سکتے ہیں . ان شعبوں میں معیاری تعلیم، بامقصد روزگار،اور مفید سماجی مصروفیت شامل ہیں. نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ فریم ورک میں 6 بڑے بڑے ذیلی شعبہ جات میں عملی اقدانات اور بروقت سرمایہ کاری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کیونکہ اس کام کے دائرہ کار کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے قومی، صوبائی اور نچلی سطح پر اشتراک کارکو موثر بنا کر ہی عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ نیشنل یوتھ ڈویلمپنٹ فریم ورکی بنیاد اس یقین پر ہے کہ آج کے نوجوان کل کے خوشحال پاکستان کے روح رواں ہیں،اور ہر شعبے میں ان کی موثر شرکت پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی پالیسی سازی کا اہم جز ہے .

نیشنل یوتھ ڈویلپمینٹ فریم ورک ایک ایسے قومی نظام کی تشکیل کے لیے رہنما اصول مہیا کرے گا جس میں نوجوانوں کو آئینی شناخت، سماجی تحفظ اور تفریح اور روزگار کے سود مند مواقع مہیا ہو سکیں. بلا شبہ یہ کام موثراور نوجوان دوست قانون سازی کے زریعے مکمل ہوگا جس سے عملی اقدامات کے لیے پائیدار پلیٹ فارم میسر آئے گا، جیسا کہ کئی سالہ قومی یوتھ ڈویلپمینٹ پروگرام۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہماری حکومت انتھک کام کرے گ، اور نوجوان دوست پالیسیاں اپنانے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے گی . اس کے ساتھ ساتھ نوجوان دوست کامن ویلتھ گلوبل الائنس اور نجی و سرکاری شراکت داری سے بھی فائدہاٹھایا جائے گا۔ ہمیں پوری امید ہے کہ نئے اور تبدیل شدہ پاکستان کے لیے اقتصادی، معاشی ، سماجی طور پر زمہ دار اور مستحکم نوجوان ہی مددگار ثابت ہوں گے جو کہ میرٹ، مساوات ، رضاکارانہ جذبے ، ملکی ترقی میں شمولیت اور برداشت کی اقدار کے حامل ہوں. اسی مقصد کے لیے یہ فریم ورک تمام شعبہ ہائے زندگی میں کامیاب جوان کے اجتماعی سفر میں پاکستانی نوجوانوں کی سمت کے تعین کے لیے ہمارا پیمائشی آلہ ہے۔

Paksitan Citizen Portal

تجاویز و شکایات

کامیاب جوان پروگرام سے متعلق اپنی تجاویز و شکایات دینے کے لیے • گوگل پلے سے ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کریں سے سٹیزن پورٹل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور یوتھ سے منسلک لنک پر جائیں۔